دنیا

برطانوی پولیس نے بانی ایم کیو ایم کو رہا کر دیا

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو برطانوی پولیس نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لندن پولیس نے بانی ایم کیوایم کو رہاکر دیا۔ اس فیصلے کا سبب ناکافی شواہد کو قرار دیا ہے۔بانی ایم کیو ایم سے سدرن پولیس اسٹیشن میں‌ تفتیش کی گئی۔ بانی ایم کیوایم نےتفتیش میں

 

پولیس کوجواب دینے سے انکارکردیا تھا ۔ انھوں نے تفتیش میں صرف نام، تاریخ پیدائش اور پتہ بتایا۔ بانی ایم کیو ایم الطاد حسین ضمانت پر رہا ہو گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے ایم کیو ایم کے بانی ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔لندن پولیس کے مطابق  الطاف حسین کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔ بانی  ایم کیوایم الطاف حسین کو منگل کے روز اسکاٹ لینڈ یارڈ نے گرفتار کیا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔گزشتہ روز لندن کی پولیس نے بانی ایم کیو ایم سے دو گھنٹے تک تفتیش کی ۔ بانی ایم کیو ایم پر فرد جُرم عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن  تاحال الطاف حسین پر کوئی فرد جُرم عائد نہیں کی گئی۔ کراؤن پراسیکیوشن سروس نے بانی ایم کیو ایم کو فی الحال چارج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانوی پولیس فرد جُرم عائد کیے بغیر چار روز تک

 

الطاف حسین کو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے مقامی وقت کے مطابق گذشتہ رات دس سے بارہ بجے تک تفتیش کی گئی۔ تفتیش کے دوران الطاف حسین نے صرف اپنا نام ، تاریخ پیدائش اور گھر کا پتہ بتایا ۔ بانی ایم کیو ایم نے برطانوی پولیس کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا جس پر برطانوی پولیس نے انہیں بتایا کہ آپ کے پاس نو کمنٹس کہنے کا آپشن موجود ہے ۔ لیکن نوکمنٹس کہنا عدالت میں آپ کے خلاف جا سکتا ہے ۔ تاہم بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکیل نے انہیں نو کمنٹس کہنے کا ہی مشورہ دیا ۔ بانی ایم کیو ایم سدرن پولیس اسٹیشن میں موجود رہے  جہاں ان سے تفتیش کی گئی ۔ تفتیش کے دوران الطاف حسین نے سینے میں درد کی شکایت کی جس پر برطانوی پولیس نے تفتیش روک دی ۔

 

واضح رہے لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا ۔لندن پولیس نے اپنے بیان میں گرفتار شدہ شخص کا نام ظاہر نہیں کیا ہے تاہم ذرائع  کے مطابق ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکاروں نے منگل کی صبح شمال مغربی لندن میں الطاف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انھیں انٹرویو کے لیے ساتھ لے گئے۔لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 11 جون کو ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور اس معاملے کا تعلق پاکستان میں ایم کیو ایم سے متعلقہ فرد کی جانب سے کی جانے والی تقریروں سے ہے۔یاد رہے کہ الطاف حسین کے حامی ان کے خلاف الزامات کو سیاسی مخالفت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔یاد رہے کہ منگل کے روز اسکاٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا۔

 

چھاپے میں 15 کے قریب پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔اسکاٹ لیںڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو لندن میں ان کے گھر سے گرفتار کرلیا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی تھی۔یہ درخواست ایم کیو ایم کے وکلا نے دائر کی تھی۔بیان کے مطابق 60برس سے زیادہ عمر کے اس شخص کو شمال مغربی لندن میں ایک مکان سے پولیس کریمنل ایویڈینس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس پر عالمی سطح پر جرائم پر اکسانے یا ان میں مدد دینے کا شبہ ہے۔ اپریل میں میٹروپولیٹن پولیس کے دہشت گردی کی تفتیش کرنے والے یونٹ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جہاں پاکستانی حکام نے ان سے تعاون کیا تھا۔خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button