اہم خبرقانونی

سندھ میں مافیازآپریٹ کر رہے ہیں، حکومت پرواہ کیے بغیر چِل کر رہی ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کو تین ماہ میں نالوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے خاتمے کا ٹاسک بھی سونپ دیا ، حکومت کی سرزنش

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ مکمل تباہی ہے اور سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے جب کہ حکمران صرف انجوائے کررہے ہیں۔

کراچی کو ہر کوئی تباہ کررہا ہے، لگتا ہے حکومت کی شہریوں سے دشمنی ہے: چیف جسٹس برہم
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نالوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے معاملے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت ہوئی جس سلسلے میں کمشنر کراچی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدالت میں پیش ہوئے۔

کمشنر کراچی نے تجاوزات کے معاملے پر رپورٹ عدالت میں پیش کی جس پر سپریم کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 38 بڑے نالے ہیں اور 514 چھوٹے نالے ڈی ایم سیز کے پاس ہیں، تین بڑے نالوں کی صفائی پر این ڈی ایم اے کام کررہی ہے۔

عدالت نے رپورٹ پر سندھ حکومت اور لوکل گورنمنٹ پر اظہار برہمی کیا۔

سندھ حکومت مکمل ناکام ہو چکی، آپ لوگ بیٹھ کر مزے کر رہے ہیں:
چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا، سندھ حکومت کچھ کررہی ہے اور نہ ہی لوکل باڈی، سارے شہر کے اندر گٹر کا پانی بھرا ہوا ہے، ہر جگہ گلیوں محلوں میں گٹر کا پانی موجود ہیں، لوگ پتھر رکھ کر گٹر کے پانی پر چلتے ہیں، آپ کی حکومت کو کتنے سال ہوگئے ہیں، کراچی سے کشمور تک کی صورتحال بدتر ہے، سندھ حکومت مکمل ناکام ہو چکی، آپ لوگ بیٹھ کر مزے کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کراچی میں حکومت کی رٹ کہاں ہے، سندھ کو بہتر کون بنائے گا؟کراچی میں روڈ نہیں، بجلی نہیں، پانی نہیں ہے، کیا دیگر ممالک میں بھی لوگ ان مسائل پر بھی سپریم کورٹ جاتے ہیں، لوگ بیچارے مجبور ہوگئے ہیں،نالوں پر گھر بنا رہے ہیں، یہاں پر مافیاز بیٹھے ہیں جن کا مقصد صرف کمائی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جتنے منصوبے سندھ میں شروع کیے سب ضائع ہوگئے، سکھر ،حیدرآباد ،لاڑکانہ اور دادو کسی ضلع میں کوئی کام نہیں ہوا، ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا،سب پیسہ ختم ہوگیا، پیسے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، کراچی میں صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے، مجموعی طور پر حکومت تو بنی ہے لیکن کام نہیں کر رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button