ادارتیکالم

قیامِ پاکستان کے ناقدین کا بیانیہ – ذوالفقار احمد چیمہ

پاکستان کے قیام کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھنے والوں کے نقطہءِ نظر کا پوسٹ مارٹم کرتا ذوالفقار چیمہ کا مدلل کالم

اب تو ہندوتوا کے پیروکاروں نے پورے بھارت کو مسلمانوں کے لیے جہنم بنادیا ہے ،کشمیر میں ان کے لیے زندگی عذاب بن چکی ہے۔

ہر روز اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانا ہی ان کا مقدر بن گیا ہے۔ اس لیے ان حالات میں پاکستان میں رہنے والے ان دین بیزار عناصرکی زبانیں بند ہیں جو قیامِ پاکستان پر تنقید سے باز نہیں آتے تھے، مگر اب بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جوہمارے بیرونی ’’مہربانوں ‘‘کی طرف سے دیا گیا ٹاسک مکمل کرنے کے لیے نئی نسل کے ذہنوں کوپرا گندہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ان میں سے بعض یہ کہہ کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ چند تنگ نظر لوگوں نے مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کر دیا۔

برصغیر کی تاریخ میں محمدعلی جناحؒ سے زیادہ روشن خیال مسلم رہنما کوئی نہیں تھا،ہندوؤں کے ساتھ ان کی ذاتی دوستیاںاور سماجی تعلقات بہت گہرے تھے۔ انھوں نے مسلم لیگ کو کانگریس کے قریب لانے کی اس قدر مخلصانہ کوششیں کیں کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے چیمپیئن کہلائے۔ مگر جب ہندو ذہنیت کے پرت کھلتے گئے اور ان کی تنگ نظری ، کم ظرفی،اور مسلم دُشمنی بے نقاب ہوتی گئی تو مسلمانوں کا یہ انتہائی فراخ دل رہنما بہت دل گرفتہ ہوا۔
جناح صاحب اور مسلم لیگی رہنماؤں کی بالآخر آنکھیں کھل گئیں اور وہ ہندو لیڈروں کی مسلم دشمنی سے بد ظن ہوگئے۔شیخ عبداللہ اپنی خود نوشت’’ آتشِ چنار‘‘ میں قائداعظمؒ کے ساتھ اپنی ملاقات کی روداد میں لکھتے ہیں کہ ’’میں نے جناح صاحب سے کہا کہ اگر مذہب کی بنیاد پر ملک بننے لگے تو ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا ‘‘ جناح صاحب میری باتیں صبر کے ساتھ سنتے رہے اور آخرکار ایک مردِ بزرگ کی طرح فہمائش کی انداز میں کہنے لگے ’’میں نے ان کے ساتھ معاملات کرنے میں اپنے بال سفید کیے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ ہندو پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔کیا آپ اس قوم پر اعتبار کرسکتے ہیں جو آپ کے ہاتھ سے پانی پینا پاپ اور مسلمانوں کو ملیچھ سمجھتی ہے؟‘‘

مسلمانوں اور ہندوؤں کے غیر فطری اور نام نہاد اتحاد کا انجام دانائے راز اقبالؒ کی دوربین نگاہوں نے بھانپ لیا تھا، اس لیے انھوں نے 1930 میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصوردے دیا۔بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک مسلمان رہنماؤں پرہندوؤں کی ذہنیت عیاں ہوچکی تھی۔رہی سہی کسر1937کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی کانگریس کی حکومتوں نے نکال دی، جنھوں نے اپنی ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں مورتیوں کی پوجا، کانگریس کے جھنڈے کو سلامی، اسلامی نظریات کے منافی بندے ماترم جیسے ترانوں کا اجراء اور اردو کی جگہ ہندی زبان رائج کرکے اپنا اصل چہرہ اور اصل ایجنڈا بے نقاب کر دیا ۔ اسی لیے بہت سے ممتاز مورخین نے لکھا کہ آٹھ ریاستوں میں حکومت ملنے پر

ہندو لیڈروں نے اپنا اصل رنگ دکھایا تو مسلمانوں کو اندازہ ہو گیا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت، ہندوؤں کی غلام بن کر رہیگی۔

آزادی کے بعد پاکستان کے سیاسی رہنماؤں میں ذوالفقار علی بھٹو سب سے زیادہ پروگریسو اور لبرل تھے، مگر وہ بھی ہندوتنگ نظری کا خود مشاہد ہ کرنے کے بعد( زمانہء طالب علمی میں وہ اس تعصب اور تنگ نظری کا شکار بھی ہوتے رہے)ہندومسلم اتحاد کے مخالف اور دوقومی نظریے کے بہت بڑے علمبردار بن گئے۔ انھوں نے 1948 میں امریکا اور یورپ میں دوقومی نظریے کے حق میں انتہائی مضبوط اور موثر دلائل کے ساتھ بڑی یادگار تقریر یں کیں ۔

’’ ڈیوٹی ‘‘والوں کو تو چھوڑیںمگرجب اسلامی ذہن رکھنے والے دانشور آزادی کے اس عظیم ترین عطیہ خداوندی پر خداتعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور قائدؒ اور ان کے ساتھیوں کو ہدیہ تبریک پیش کرنے کے بجائے تنقید کریں اور کوئی دلیل نہ ملے تو یہ کہنا شروع کردیں کہ ’’چلیں جناح صاحب اور مسلم لیگ نے پاکستان بناکر بیس کروڑ مسلمانوں کو تو آزاد کرالیا مگر جو بیس کروڑ ہندوستان میں رہ گئے، ان کے بارے میں کیوں نہ سوچا؟‘‘تو دکھ ہوتا ہے۔

کئی باخبر حضرات کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے والے جمعیت العلما ئے ہند یا مولانا ابوالکلام آزاد کے پیروکار اور معقتد ہیں اور وہ اپنے بزرگوں کے موقف کو غلط ثابت ہوتا نہیں دیکھ سکتے اس لیے وہ ایسی کمزور دلیلیں گھڑ کر لاتے ہیں کہ اگر ہم سارے مسلمان ہندوستان میں اکٹھے ہوتے تو اپنی تعداد کے باعث محفوظ ہوتے ۔ ارے بھائی اگر سب وہیں ہوتے تو غلاموں کی تعداد ساٹھ کروڑ ہوجاتی۔ اﷲ کا شکرہے کہ ساٹھ میں سے چالیس کروڑ آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہیں۔ کشمیرمیں تو نوے فیصد مسلمان ہیں، کیا اس ریاست میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ان کے تحفظ کی ضمانت بن سکی ہے؟ موجودہ طرزِ حکومت میں جسکی اکثریت ہے اُ سی کی مرکز( یعنی دہلی) میں حکومت بنے گی اور ریاستی جبر کے تمام ادارے اسی کے کنٹرول میں ہونگے۔اس کے علاوہ باقی سب اقلیت اور غلام ہونگے۔

لہٰذاان کی یہ دلیلیں کھوکھلی اور حقائق کے منافی ہیں ۔ جہاں تک ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں چند حقائق قارئین کو ضرور پیشِ نظر رکھنے چائیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کرنے کی سب سے پہلے اور سب سے پر جوش حمایت اُن علاقوں کے مسلمان زعماء نے کی جو جانتے تھے کہ وہ ہندوستان کا حصہ بنیں گے مگر وہ برملا کہتے تھے کہ ہندو اکثریت کی غلامی سے جتنے بھی مسلمان بچ سکیں وہ غنیمت ہے، وہ خود مثالیں دیا کرتے تھے کہ ڈوبتی کشتی کے مسافروں کو بچانے کے لیے چند لائف جیکٹس میسر ہوں تو کیا وہ اس لیے استعمال نہ کی جائیں کہ سب کے لیے میسر نہیں ہیں، جتنے بچ سکتے ہیں انھیں ضرور بچانا چاہیے۔

جہاں تک قیامِ پاکستان کے مخالفین کا تعلق ہے ان میں مجلسِ احَرار نے مخالفت کی تھی مگر اس کے امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اسے اپنی سیاسی غلطی کہہ کر تسلیم کر لیا کہ ان کا موقف غلط تھا ۔ جماعتِ اسلامی نے پاکستان کی مخالفت نہیں کی مگر کھل کر حمایت بھی نہیں کی ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دوقومی نظریے کے حق میں سب سے موثر اورمدلل تحریریں مولانا مودودیؒ نے لکھیں جنھیں تحریکِ پاکستان کے حق میں استعمال کیا جا تا رہا۔ویسے بھی اس جماعت کے زعماء نے قیامِ پاکستان کو دل و جان سے تسلیم کیا اورا سکی تعمیر اور تحفظ میں بھرپور کردار ادا کیا۔مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی کیونکہ وہ بھارت کے مرکزی وزیر تھے مگر پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم کیا اور نجی محفلوں میں پاکستان کے بارے میں کلمہ خیر کہتے رہے۔

جمعیت علمائے ہند کے رہنما مولانا حسین احمد مدنی جو کسی زمانے میں اس نظریے کے پرچارک تھے کہ قوم مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ وطن کی بنیاد پر بنتی ہے، جس پر علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا کہ قوم علاقے سے نہیں نظریے اور عقیدے سے بنتی ہے۔ مگر مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بھی بعد میں فرمایا (حوالے کے لیے محترم ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے مجھے ان کی کتاب’’ مولانا حسین احمد مدنی ؒ واقعات وکرامات ‘‘کا عکس بھیجا ہے)کہ ’’مسجد بننے سے پہلے اس کی جگہ پر اختلاف ہو سکتا ہے مگرمسجد بن جانے کے بعد اس پر اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ‘‘ یعنی اُس پائے کے جید عالمِ دین نے بھی قیامِ پاکستان کو تعمیرِ مسجد سے تشبیہہ دی۔

ہندوستان میں بسنے والے مسلمان پاکستان اور بنگلادیش کے آزاد مسلمانوں کو رشک کی نظروں سے دیکھتے ہیں ، وہاں کے ایک بڑے مسلمان رہنما سے چند روز پہلے ایک صحافی نے متحد ہ ہندوستان کی بات کی تو اس نے کہا ’’ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ پاکستان اور بنگلادیش کے مسلمان اپنی جنت سے نکل کر اِس جہنم میں آجائیں‘‘۔

تحریک ِ پاکستان کے اُن رہنماؤں کے ذہن میں جو ہندوستان کا حصہ بننے جارہے تھے، وہاں رہ جانے والے مسلمانوں کے تحفظ کا کیا نقشہ تھا؟ اور اس بارے میں قائداعظم ؒ اور ان کے ساتھی کیا سوچتے تھے؟ اس سلسلے میں اُنکے ذہن میں پہلی بات تو یہ تھی کہ پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں ہندواور سکھ موجود ہیں (اُسوقت خونی فسادات اور اس کے نتیجے میں پوری آبادی کی ہجرت کا کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا)اس لیے ان کی موجودگی خود ہندوستان کے مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت ہوگی۔دوسرا یہ کہ پاکستان اقتصادی اور عسکری لحاظ سے اتنا مضبوط ہوگا کہ ہندوستان میں موجود مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اس کا دباؤ اہم کردار ادا کرے گا، ویسے قیامِ پاکستان کے پہلے بیس سال ایسے ہی تھے جب پاکستان ہر میدان میں بڑی تیزی سے ترقی کے زینے طے کر رہا تھا اور بھارت سے کہیں آگے تھا۔

اُسوقت تک پاکستان کا کوئی مطالبہ یا دباؤ نظر انداز کرنا بھارت کے لیے آسان نہیں تھا ۔ اب ناقدین کہیں گے کہ کیا آپ دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دیتے؟راقم اُن بھولے ناقدین سے پوچھنا چاہے گاکہ کیا اِسوقت ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل نہیںدیا جارہا؟ میرے ذاتی علم میں ہے کہ کئی یورپی اور کئی مسلمان ممالک نے کئی ایشوزپر پاکستان پر دباؤ ڈالا اور اپنی بات منوالی۔ اگر آج بھی پاکستان اور بنگلادیش ملکر ہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ کے لیے دباؤڈالیں تو ہندوستانی حکمران اسے نظرانداز نہیں کر سکتے اور انھیں وہاں کے مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنانا پڑیگا۔

یہ درست ہے کہ آج دونوں ملک اس پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ بنگلادیش میں بغیر انتخابات کے بھارت کی کٹھ پتلی وزیراعظم مسلط ہے اور پاکستان میںپچھلے دوسالوں میں معیشت بُری طرح برباد ہوئی ہے۔ مگر اچھے دن بھی آئینگے پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہوگا اور بنگلادیش کی خود مختاری بحال ہوگی۔ اس کے بعد دونوںاسلامی ملک ترکی ،ملائیشیا اور ایران کو ساتھ ملاکر مشترکہ طورپر بھارت پر دباؤ ڈالیں توو ہاں کے مسلمان غیر محفوظ نہیں رہیں گے اور ان کا خون مانندِ آب ارزاں نہیں رہیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button