ادارتیکالم

زیرِ التواء مقدمات کا کیا کیا جائے —- محمد بلال غوری

پاکستان میں کچھوے کی چال چلتا نظامِ انصاف عدلیہ کو ملنے والی بیشمار مراعات اور سہولیات کے باوجود انصاف کے منتظر لوگوں کی ہوش ربا تعداد کونسا دروازہ کھٹکھٹائے بلال غوری کا نیا کالم

ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مارشل لا سے متعلق ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،مارشل لا سے بہتر ہے دوبارہ حکومت انگریزوں کو دیدی جائے۔ یہ بات مجھ ایسے صحافی نے کہی ہوتی تو اسے خوئے غلامی کا طعنہ دیا جاتا مگر اعلیٰ عدلیہ کے ایک معزز جج نے یہ فرمایا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔

تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے بزرگوں سے بات چیت ہو تو وہ بھی سرد آہ بھرتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ انگریزحاکم اور ہم محکوم ضرور تھے مگر ایسی لاقانونیت، بدمعاشی، مہنگائی اور بےروزگاری کا اس دور میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تاریخی حقائق سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انگریزجو لوٹ مار کی غرض سے یہاں آئے، انہوں نے بھی اس بیدردی سے نہیں لوٹا جس بے رحمی سے اپنوں نے قومی خزانے پر ہاتھ صاف کیا۔

تاجِ برطانیہ نے1949میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور اقتدار ختم ہونے پر لارڈ ڈلہوزی کی قیادت میں پنجاب کا انتظام سنبھالا۔ ابتدائی تین سال میں 1349میل سڑکیں تعمیر کی جا چکی تھیں، 853میل شاہرائیں زیر تعمیر تھیں جبکہ 5272میل سڑکیں بنانے کے لئے سروے مکمل کیا جا چکا تھا۔ مئی1954تک مزید 1854میل سڑکیں بنائی گئیں۔ نہ صرف درآمدی و برآمدی ڈیوٹیاں ختم کردی گئیں بلکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں لگائے گئے 35اقسام کے ٹیکس ختم کر دیے گئے۔

پنجاب میں زراعت کی اہمیت کے پیش نظر باری دوآب کینال سمیت کئی نہری منصوبے شروع کئے گئے۔ جنوبی پنجاب کی زرعی اجناس کے لئے ملتان کو ریل کے ذریعے کراچی کی بندرگاہ سے منسلک کردیا گیا مگر آج ہم جس تنزلی اور زبوں حالی کا شکار ہیں اس کا ذمہ دار بھی انگریزوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔

غیرمعمولی اور باصلاحیت افراد کے پیدائش کے حوالے سے سماج کے بانجھ پن کی بات ہوتو ہم سوچنے کا تکلف کئے بغیر لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو برابھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔

سستے اور فوری انصاف کی عدم دستیابی پر مرثیہ خوانی کی جا رہی ہو تو ہم تدبر کا تردد کرنے کے بجائے فوراً انگریز کے بنائے عدالتی نظام پر تبریٰ کرکے جان چھڑا لیتے ہیں۔گویا یہ فرسودہ اور بیہودہ نظام ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے جسے گورے یہاں سے رخصت ہوتے وقت ہم پر مسلط کرکے چلے گئے۔

ثواب کی نیت سے انگریزوں پر لعن طعن ضرور کریں لیکن کبھی فرصت ہو تو اس سوال پر غور کرنے کی زحمت بھی گوارہ کرلیں کہ کیا یہ نظام قیامِ پاکستان سے پہلے بھی اتنا ہی ناقص اور گھٹیا تھا یا ہمارے آزاد ہونے کے بعد خرابیوں کا مرقع بن گیا ہے؟ اس دور کے معاشی،تعلیمی اور عدالتی نظام سے متعلق اعداد وشمار باآسانی دستیاب ہو سکتے ہیں۔

عدالتی نظام کے حوالے سے ایک تنقید یہ کی جاتی ہے کہ موجودہ عدالتیں کورٹ آف لا ہیں،کورٹ آف جسٹس نہیں۔ یعنی ان کا کام قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے ناں کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنا۔ اگر کسی جج کے سامنے بھی قتل کی واردات ہو جائے تو اسے ثبوتوں اور گواہوں کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی ۔

بظاہر یہ دلیل بہت زوردار محسوس ہوتی ہے لیکن دراصل یہی کمزوری ہی اس عدالتی نظام کی طاقت ہے۔ چند روز قبل ایک عدالت میں جج کے سامنے ایک شخص کو قتل کردیا گیا مگر وہ جج جس نے قتل ہوتے دیکھا، محض اس بنیاد پر کہ اس نے قتل ہوتے دیکھا، ملزم کو سزا نہیں سنا سکتا اگر جج قانون کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلے کرنے لگیں تو پھر ہر ایک کے ضمیر کی آواز مختلف ہوگی اورناحق کو بھی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ نظام اس سوچ کے تحت مرتب کیا گیا ہے کہ انصاف کی کرسی پر کوئی غلط شخص بھی براجمان ہو جائے تو من مانی نہ کر سکے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اسی عدالتی نظام کے تحت انگریزوں کے دورِ حکومت میں برقت فیصلے ہو رہے تھے تو اب سستا اور فوری انصاف مہیا کیوں نہیں ہو رہا؟ بعض افراد کا خیال تھا کی وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے، جج صاحبان کی تنخواہیں اور مراعات کم ہیں جس سے رشوت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 2008میں ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان کی تنخواہوں میں بیک جنبش قلم تین گنا اضافہ کردیا گیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ماہانہ تنخواہ 2008میں تقریباً دو لاکھ روپے تھی مگر پے درپے اضافے کے بعد اب کم وبیش 12لاکھ روپے ہے۔

سپریم کورٹ کا بجٹ جو 2007-08میں 315ملین تھا، 300فیصد سے بھی زیادہ اضافے کے نتیجے میں 1966ملین روپے ہو چکا ہے مگر زیرالتوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت پاکستان کے جسٹس کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد جو گزشتہ برس 19لاکھ تھی۔

اب بڑھ کر 20لاکھ 41ہزار ہو چکی ہے۔ ماتحت عدالتوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 30ہزار مقدمات نمٹائے گئے مگر اس دوران ایک لاکھ 65ہزار نئے مقدمات کا اضافہ ہو گیا۔ سپریم کورٹ میں یکم جون سے 15جون 2020تک 260مقدمات کا فیصلہ ہوا مگر اس دوران 446نئی درخواستیں داخل کی گئیں یوں زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 45125ہو چکی ہے۔

ان زیر التوا مقدمات کا کیا کیا جائے، معزز جج صاحبان کو اس حوالے سے بھی رہنمائی کرنی چاہئے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button