پاکستانکاروبار

کاسہ توڑنے والوں نے 2 برسوں میں قرضوں کا بوجھ 11.35 کھرب روپے بڑھا دیا

تحریکِ انصاف حکومت میں آنے سے پیشتر ذاتی وسائل پر انحصار کرنے اور قرضوں سے اجتناب کا عندیہ دیتی رہی لیکن قرضوں کا سود ادا کرنے اور روپے کی گرتی قدر کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دبتی رہی

گذشتہ روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت خزانہ کے ترجمان محسن چاندنہ نے کہا کہ  30جون 2020 کوحکومتی قرضے 36.3  کھرب روپے ( جی ڈی پی کا  87 فیصد ) تھے۔ محسن چاندنہ کے مطابق دو سال کے دوران قرضوں میں 11.35 ٹریلین روپے ( 45فیصد ) اضافہ ہوا۔

مسلم لیگ ( ن ) کا دورحکومت مکمل ہونے پر سرکاری قرضے 24.95 کھرب روپے ( جی ڈی پی کا 72.5 فیصد ) تھے۔ صرف دو سال کے دوران پی ٹی آئی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 87 فیصد تک لے گئی۔

محسن چاندنہ کے مطابق قرضوں میں 42فیصد اضافہ حاصل کردہ قرضوں پر سود کی ادائیگی اور اس سے متعلق اخراجات اور 31فیصد اضافہ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button